گم گشتہ سے اوراق میں رکھی رہتی
بھولے ہوۓاسباق میں رکھی رہتی
کھولی ہی نہ جاتی یہ کتابِ ہستی
اچھا تھا کہیں طاق میں رکھی رہتی
-------------------
عباس علی عباس