پیر، 10 اگست، 2015

گم گشتہ  سے اوراق میں رکھی رہتی
بھولے  ہوۓاسباق میں رکھی رہتی
کھولی ہی نہ جاتی یہ کتابِ ہستی
اچھا تھا کہیں طاق میں رکھی رہتی

-------------------
عباس علی عباس

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں